ہمارا عقیدہ

ہمارا عقیدہ

ہم کون ہیں ۔۔؟
تحریر۔۔۔ (شیخ خالد حقانی  حفظہ اللہ معاون امیر تحریک طالبان پاکستان)

1۔الحمد اللہ ہم تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین ،پاکستان کے رہنے والے مسلمان ہیں

2۔ہم اللہ جل جلالہ کی وحدانیت کے قائل ہیں اوریہ ہمارا اور  ہرمسلمان کا ایمان ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی  انسان ،جن اورفرشتہ  وغیرہ کو ہم الوہیت  کاحق  نہیں دیتے ،

اللہ تعالیٰ نے نومرتبہ قرآن  مجید میں فرمایا : {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ}
” اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ)اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں “۔
{وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ}
(البقرۃ:163)
“اور (لوگو )تمہارا معبود ایک ہی (یعنی اللہ تعالیٰ )ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں  بڑامہربان نہایت رحم والاہے “۔

3۔ہم محمد رسول اللہ  ﷺاور ان سے پہلے گذرے ہوئے تمام انبیاء پرایمان لاتے ہیں  اوران کو اللہ تعالیٰ کا برحق اور آخری نبی سمجھتےہیں اور جوشخص یاگروہ ختم نبوت کامنکرہے اس   کو ہم کافر سمجھتے ہیں   اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:
{مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا} (الاحزاب: 40)
“محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں ، بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت ) کی مہر (یعنی ان کو ختم کرے والے )ہیں  ، اور اللہ ہرچیز سے واقف ہے “۔

4۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ کرام کو برحق سمجھتےہیں اور ان میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتے ،اھل السنۃ والجماعۃکے عقیدے کے مطابق ہم شیخین
(ابوبکر صدیق اورعمررضی اللہ عنہما)کوفضیلت دیتے ہیں اورختنین (حضرت عثمان وحضرت علی رضی اللہ عنہما)سے محبت کرتے ہیں  اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ}
(الانفال : 74)
“اور جو لوگ ایمان لائے اورہجرت کرگئے اوراللہ کی راہ میں لڑتےرہے اور جنہوں نے( ہجرت کرنے والوں کو)جگہ دی اور ان کی مدد کی ،یہی سچے مؤمن ہیں “۔
امام ابوحنیفہ ؒسے اہل السنت والجماعت  کے عقیدے کے بارے میں پوچھاگیا توآپ نے جواب میں فرمایا:” ھو ان تفضل الشیخین وتحب الختنین”۔
” وہ یہ ہے کہ توشیخین (ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما )کوفضیلت دے اور ختنین (عثمان وعلی رضی اللہ عنہما)کے ساتھ محبت کرے “۔
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ للمیدانی ،ص: 113)

5۔ شیخین اور دوسرے صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوگالی دینے والوں ،ان پرلعنت بھیجنے والوں  اور ان صحابہ کرام کو جن کااسلام بالتواترثابت ہے کافر کہنے والوں کو ہم دائرہ اسلام سے خارج اور کافر سمجھتے ہیں ۔

6۔ہم قرآن کریم کو اللہ کا بھیجاہواکامل اور مکمل قانون سمجھتے ہیں ،تیس پاروں اور 114 سوررتوں  پرمشتمل قرآن جوہمارے درمیان موجود ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل علیہ السلام کے واسطے خاتم النبیین ﷺ پرنازل شدہ کتاب سمجھتے ہیں اور اس کو ناقص سمجھنے والوں یا اس کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کو ماننے والوں اوراس میں تحریف کے قائل لوگوں کوہم کافرسمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ}  (الحجر:9)
” بیشک ہم ہی نے ذکر (قرآن )نازل کیاہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں “۔
اور یہ بات دین اسلام میں بالضرورۃ معلوم ہے (روزروشن کی طرح واضح ہے )کہ الذکرسے مراد قرآن ہے بین الدفتین اور مقروءبالالسنۃ ہے (جودوگتھوں کے درمیان موجود ہے اور زبانوں سے پڑھاجاتاہے )جوچودہ سوسال سے موجود ہے ،اس کاکوئی  حصہ محذوف ہے اور نہ غائب ۔

7۔ہم تمام انبیاء علیہم السلام کو گنا ہ سے معصوم سمجھتے ہیں اور جوشخص انہیں گنہگار ثابت کرے ہم اسے ضال ومضل (گمراہ اور گمراہ کرنے والا)سمجھتے ہیں ، اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے علاوہ  ہم کسی انسان کو معصوم نہیں سمجھتے  ۔

8۔ہم نبی کریم محمد ﷺ کے صحابہ  کو معیارحق (حق پہچاننے کی کسوٹی )اور اپنے لئے مقتدا اور پیشوا سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{ فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا}(البقرۃ :137)
تویہ لوگ بھی اگر اسی طرح ایمان لے آئیں  جس طرح تم ایمان لے آئے ہو توہدایت یافتہ ہوجائیں “۔

9۔اسماء وصفات کے مسئلے میں ہم ،اھل السنۃ والجماعۃ  کے مسلک کے تابع ہیں نہ ہم اللہ تعالیٰ کے لیے جسم ثابت کرتےہیں اور نہ ہم صفات کو  اللہ تعالیٰ کی ذات سے نفی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتاہے {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ }(الشورى:11)
اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے ،دیکھنے والاہے “۔

10۔ ایمان وکفر کے مسئلے میں ہم اہل سنت وجماعت کے معتدل مسلک پرہیں ،ہم اس مسئلے میں افراط وتفریط سے برائت کرتے ہیں ،نہ تو ہم جہمیہ ومرجئہ کی طرح اعمال کو ہدر (بے فائدہ )سمجھتےہیں  اور نہ ہی خوارج ومعتزلہ کی طرح ہرگناہ پرکسی کو اسلام سے خارج کرتےہیں ۔

11۔ہم اہل اسلام اور عالم اسلام میں اصل ،اسلام سمجھتےہیں یعنی ہم ان  کو مسلمان سمجھتےہیں جب تک کہ ان سے  کوئی ایسا قول یافعل صادرنہ ہوجائے جو اسلام سے خارج کرنے والے  مکفرات اورامارات کفر میں سے  ہو:الايمان هو التصديق بجميع  ماجاء به النبی ﷺ من حيث ما جاء به النبی ﷺ اجمالا فيماعلم اجمالاوتفصيلافيماعلم تفصيلا مع التزام الطاعة من غير ان يقترن بامارات التکذيب  والانکار(کشف الباری )
” ایمان ان تمام (وحی )کی تصدیق ہے جونبی ﷺ لا ئے ہیں اس حیثیت سے کہ نبی ﷺ لائے ہیں ،اجمالی تصدیق ان امور میں جو اجمالی معلوم ہیں اور تفصیلی تصدیق ان میں جوتفصیلی معلوم ہیں ، التزام طاعت کے ساتھ تاوقتیکہ اس (تصدیق)کے ساتھ  تکذیب وانکار کی علامات مقترن وپیوست نہ ہوں “۔

12۔تحریک طالبان  پاکستان سے تعلق رکھنے والے مجاہدین  کی اکثریت فروعی مسائل میں اہل سنت وجماعت کے چارمذہبوں میں امام ابوحنیفہ ؒکے مذہب پرعمل پیراہے ۔اور اس کے ساتھ اہل سنت وجماعت  سے متعلق دوسرے مذاہب کو برحق سمجھتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی نفرت نہیں کرتے ۔ امت کی وحدت اور خلافت  اسلامیہ کی خاطر ہم ہرمسلمان کو اپنی اس  تحریک میں جگہ دیتےہیں ۔اور ہرقسم کے مسلکی ،لسانی اور قومی تعصبات سے اپنے آپ کو دوررکھتے ہیں جیساکہ حدیث شریف میں ہے : مثل المؤمنین فی توادھم وتراحمھم وتعاطفھم مثل الجسد الواحد اذااشتکی ٰمنہ عضوتداعیٰ  لہ سائرالجسد بالسھروالحمیٰ۔(صحیح مسلم: 2586)
“مؤمنوں کی مثال آپس میں محبت ،رحم اور ایک دوسرے سے نرمی کرنے میں ایک جسم کی مانند ہے ،جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتوپوراجسم اس کے لئے بےخوابی اور بخارمیں مبتلارہتاہے “۔

13۔اور جب ہم ان کومسلمان سمجھتےہیں جیسا کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پرفرمایا  :فان اللہ حرم علیکم دمائکم واموالکم واعراضکم کحرمۃ یومکم ھذافی شھرکم ھذافی بلدکم ھذا (صحیح بخاری : 1742)
” بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے خون ،اموال اورعزتیں تمہارے اوپرحرام کی ہیں ،تمہارے اس دن (یوم الحج )کی حرمت کی طرح ،تمہارے اس مہینے میں ،تمہارے اس شہر میں “۔
پس ہم ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جوعام بے گناہ مسلمانو ں پر ان کے بازاروں اور مساجد میں  کیے  جاتے ہیں ،اس طرح کے حملوں سے ہم برائت کرتے ہیں ،اسی طرح طالبان کے نام پرپیسے وصول کرنے کوناجائز اور حرام سمجھتے ہیں اور اس کو پاکستان کے کالے نیٹ ورک (آئی۔ایس ۔آئی )اور بدنام زمانہ امریکی ایجنسی بلیک واٹر کاکام سمجھتےہیں ۔

14۔ہم اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے متبادل وضعی (خود ساختہ )قوانین بنانے یااس میں کسی قسم کی تبدیلی اور ترمیم کرنے اور غیراللہ کے قانون کو اللہ تعالیٰ کے قانون پرترجیح دینے کوغیر اسلامی فعل اور  کفر سمجھتےہیں ۔حدیث شریف میں ہے : من بد دینہ فاقتلوہ۔
” جس نے اپنا دین تبدیل کیا اسے قتل کرو”۔(صحیح بخاری : 6922)

15۔ہم تحریم وتحلیل (کسی چیز کوحلال یاحرام کرنا )کاحق صرف اللہ کے لئے تسلیم کرتے ہیں اور کسی بھی انسان کے لیے  یہ جائز نہیں سمجھتے کہ وہ کسی چیزکو  جائز یاناجائز بنادے ۔

16۔ ہم قرآن وسنت کے نصوص اور اکابر علماء کی تشریحات کے مطابق مسلمانوں کی طرف سے کفار کے ساتھ دوستی اور محبت ، حرام اور ناجائز سمجھتےہیں ،اورمسلمانوں اور کفار کے درمیان جنگ کے دوران مسلمانوں کے خلاف کفار کی صف میں کھڑے ہو نے اور ان کی فتح اور اسلام اور مسلمانوں کی شکست  کے لئے لڑنے کوکفر سمجھتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتاہے :{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} (المائدۃ:51)
” اے ایمان والو!یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ،یہ ایک دوسرے کے دوست  ہیں اورجوشخص تم میں سے انہیں  دوست بنا ئے گاوہ بھی انہی میں سے ہوگا، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کوہدایت نہیں دیتا”۔
فقیہ العصر شاہ انورشاہ کشمیری ؒ اکفار الملحدین ص:129میں فرماتےہیں :  ومن ذب عنہ اوتاول قولہ     یکفر قطعالیس فیہ توان ۔
“اور جس نے اس (غلام احمد قادیانی )کادفاع کیایا اس کے قول کی تاویل کی تووہ قطعی کافر ہے اور اس بات میں کوئی کمزوری نہیں ہے ۔یہ عبارت صرف غلام احمد قادیانی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہرکافر کے کفر ،نظام اوراس کے قانون کا دفاع کرنے کو شامل ہے “۔

17۔ ہم  اسلام کے قیام اور اس کی حاکمیت کے لیے مسلح جدوجہد (قتال فی سبیل اللہ )پر یقین رکھتے ہیں اور قتال فی سبیل اللہ کے منکر اور اس پر یقین نہ رکھنے والوں کواسلام سے خارج سمجھتےہیں جس طرح کہ نماز اور دوسرے شرعی احکام پر یقین نہ رکھنے اور اس سے انکار کرنے والوں کو ہم کافر سمجھتےہیں اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ}(الانفال :39 )

“اور ان سے لڑتے رہویہاں تک کہ فتنہ(کفرکافساد ) باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کاہوجائے ” ۔الايمان هو التصديق بجميع  ماجاء به النبی ﷺ  ومنہ الجھاد۔

18۔ہم اسلام اور اسلامی خلافت کے علاوہ ہرازم کو کفر سمجھتےہیں :{  وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} (آل عمران :85)

“اور جوشخص اسلام کے  سوا کسی اور دین کاطالب ہوگاوہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا اور ایساشخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا”۔

19۔ہم سیکولراورجمہوری نظام کو کفر سمجھتے ہیں اور اس کو کفار کی طرف سے مسلمانوں کے علاقوں پرقبضہ سمجھتےہیں چنانچہ ہم اپنے علاقوں کواس قبضے سے چھڑانے کے لیے تمام امت مسلمہ کو دعوت دیتےہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں تاکہ اپنے ممالک سے اس کفری نظام کاخاتمہ کریں اور اس کی جگہ خالص اسلامی  نظام اور خلافت علی منہاج النبوت  قائم کریں ۔

20۔ ہم فدائی حملوں کو جائز سمجھتےہیں اور اس کو اس جہاد میں دشمن کے خلاف  ایک مؤثر ہتھیار سمجھتےہیں ،لیکن چونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اس لئے ہم اپنے اجتہاد کو دوسرو ں پر تحمیل نہیں کرتے اور کسی سے صرف اس بات پر کہ وہ فدائی حملے نہیں مانتا ،دشمنی نہیں کرتے ، بشرطیکہ وہ دشمن کا معاون نہ   ہو۔

21۔ہم اسلامی زمین کو ایک گاؤں جیسا سمجھتے ہیں اور  بعثت نبوی سے لے کرآج تک جس زمین پر ایک دن کے لیے بھی خلافت قائم ہوئی ہو ،وہ اسلامی زمین ہے اور ہم کفار کی طرف سے لسانی اور قومی بنیادوں پر سرزمین اسلام کی تقسیم نہیں مانتے اور اس کو ایک منظم سازش سمجھتےہیں ، جیساکہ فقہاءفرماتےہیں : وبلاد الاسلام کلھا بمنزلۃ البلدۃ الواحدۃ ۔(مجموع الفتاویٰ:ج5)

” اوراسلام کے تمام شہر ایک گاؤں کی مانند ہیں”۔

چنانچہ ہم ان ممالک کو کفری نظام کے تسلط سے چھڑانااپنے اوپرفرض سمجھتےہیں ۔

22۔اقوام متحدہ (جوایک ملغوبا ہے،جس نے افغانستان سمیت پوری اسلامی دنیاپرایک عظیم جنگ مسلط کررکھی ہے اور جس کا منشور اور چارٹر غیراسلامی کفری قوانین پرمشتمل ہے )کا اور اس کے قوانین کاہم انکار کرتےہیں اور س کو طاغوت اکبر اور کفر کاامام سمجھتے ہیں ،اس کا انکار ہرمسلمان پرفرض ہے :{فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِالْوُثْقَى }(البقرۃ :256)

            “جوشخص طاغوت (معبودومطاع من دون اللہ )کا انکار کرے اور اللہ پرایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی تھام لی  جوکبھی ٹوٹنے والی نہیں “۔

            23۔ہمارامنشور،قرآن وسنت اور ائمہ دین کی تشریحات ہیں ،ہم نہ تو بدعتی ہیں اور نہ ہی خواہشات کے متبع ،ہم قرآن وسنت کی من مانی تشریحات کو حرام اور زندقہ سمجھتےہیں ۔۔۔