440

ناپاک فوج اور جنگی اخلاق۔۔۔تحریر از: اسلام مھاجر

ناپاک فوج اور جنگی اخلاق
تحریر…اسلام مہاجر

دنیا بھر میں جانوروں سے بدتر افواج اور ان میں سرفہرست پاکستان کی ناپاک فوج نے یقینا جنگ کے حوالے سے کچھ اصول قوانین،اور جنگی اخلاق وضع تو ضرور کررکھے ہیں لیکن خارج میں اور واقع میں ان پر عمل کتنا ہوتا ہے تو اس کیلیے ذرا گوانتاناموبے سے بگرام تک اور ابوغریب سے ناپاک فوج کے خفیہ عقوبت خانوں پر نظر دوڑا لینے سےکافی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے،

یوں تو جنیوا کنونشن میں لکھے گئے اصول و ضوابط میں یہ بات شامل ہے کہ دوران جنگ عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو جو جنگ میں شامل نہیں انکو نشانہ نہیں بنایا جائے گا
لیکن یہ ناپاک فوج قصدا جنگ میں عورتوں بچوں بوڑھوں حتی کے مساجد اور مدارس کو نشانہ بناتی ہے اور فضائی آپریشن (بمباری)کسی بھی جنگ کا آخری آپشن ہوتا ہے لیکن یہی مرتد فوج اسے سب سے پہلے آپشن کے طور پر استعمال کرتی ہے اس پر بطور مثال باجوڑ ایجنسی کے علاقے ڈمہ ڈولہ میں واقع دینی مدرسہ پر پاکستانی حدود میں پہلا ڈرون حملہ اور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا المناک سانحہ ہی کافی ہے

دنیا کے کسی قانون میں خصوصا اسلام میں کسی مجرم کی وجہ سے اس کے اھل خانہ کو اٹھانا اور لاپتہ کرنا جائز نہیں …
لیکن اسلام کے نام پر بنے ملک میں یہ سب کچھ شاید سرکاری فتوے سے جائز ہے صرف ایک مجاھد کی وجہ سے اس کے پورے خاندان کو عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو ستایا جاتا ہے لیکن اہل انصاف کی زبانیں گنگ ہیں

دنیا کا ہر قانون قیدیوں سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اور اسلام میں بھی قیدیوں سے انتہائی اچھے سلوک کا حکم دیا گیا ہے
لیکن پاکستانی مرتد فوج اور خفیہ اداروں کے عقوبت خانوں میں جو اہل اسلام سے سلوک روا رکھا جاتا ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں

دنیا کا ہر قانون کسی قیدی کو ماورائے عدالت قتل کرنے سے منع کرتا ہے
لیکن اسلام کے قلعے میں تو یہ کام شاید بطور ثواب کے کیا جاتا ہے نہتے قیدیوں پر بہادری دکھائی جاتی ہے مونچھوں کو تاؤ دیا جاتا ہے اور پھر ان مظلومین کی جیب سے برآمد ہونے والے چند سو روپوں کو ہزاروں کی تنخواہ پر پلنے والے حرام خور مال غنیمت سمجھ کر اپنے پیٹ کا جہنم بھرتے ہیں…اللہ رب العزت تو سب کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یقینا انصاف والی ذات ہے

ناپاک فوج ویسے تو اپنے آپکو سکول و کالجز کی محافظ اور طالبان کو دشمن بتاتی ہے لیکن خود سکول کالجز اور مدارس کو بطور مورچہ استعمال کرتی ہے جسے جب اللہ کے شیر اڑادیتے ہیں تو پھر رونا شروع کردیا جاتا ہے کہ دیکھیں جناب ہم نے کہا ناں یہ لوگ تعلیم کے دشمن ہیں،
یہ بات سمجھنے کیلیے انسان میں انصاف عقل دانش مندی اور عسکریت سے واقفیت اور حقائق کی طلب موجود ہونی چاہیے
عجیب بات ہے کہ بعینہ یہی سوال عالمی جہاد کے مشہور داعی اور مجاھد عالم دین اور القاعدہ برائے جزیرة العرب کے مشہور شیخ انورالعولقی تقبلہ اللہ سے بھی کیا گیا تھا جب انہوں نے اھل پاکستان سے ایک مرتبہ خطاب کیا تھا تو شیخ نے بعینہ یہی جواب دیا تھا شیخ کو یمن میں ان حقائق کا علم ہوگیا لیکن ہمارے قوم کے دانش مندوں کو نہ ہوسکا،حسبنااللہ ونعم الوکیل

اسی طرح جنگ زدہ علاقوں میں حقائق کو چھپانے کیلیے اور عامة الناس کو گمراہ کرنے کیلیے آپریشن زدہ اپنے ہی ملک کے مفتوحہ علاقوں میں مکمل میڈیا کا بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے اور تاحال انٹرنیٹ کی سروس بھی نہ ہونے کے لائق ہے مبادا کہیں کالے کرتوت منظر عام پر ہی نہ آجائیں،

یہ فوج اور اسکے حاشیہ بردار ہمیشہ مجاھدین اسلام کو بدنام کرنے کیلیے یہ الزامات لگاتے رہے ہیں کہ مجاھدین اپنے مقاصد کیلیے کم عمر بچوں کی برین واشنگ کرتے ہیں اور انہیں اپنے مقاصد کیلیے استعمال کرتے ہیں
لیکن حقیقت حال بالکل برعکس ہے یہ مردود فوج اپنے مقاصد کیلیے بچوں کو استعمال کرتی ہے حتی کے بے ریش لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے مجاھدین کی جاسوسی کرنے جیسا گھٹیا کام تک لیتی ہے کئی واقعات اس پر شاہد ہیں اس کے علاوہ اپنے سپاہیوں کو بھی گمراہ کرکے مجاھدین کے خلاف لڑانے کیلیے لے جایا جاتا ہے کہ آپ طالبان سے نہیں انڈین آرمی کے کمانڈوز سے جنگ کرنے کیلیے جارہے ہیں

ابھی ایک تازہ واقعہ بروز بدھ 10جولائی 2019 بمطابق 07 ذوالقعدہ 1440 ھ کو باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سلارزئی کے مختلف مقامات میں مجاھدین اسلام کے مرتد فوج پر کیے گئے حملے کے دوران پیش آیا کہ جس میں مجاھدین اسلام نے پاکستانی مرتد فوج کے بطور ڈھال مجاھدین اسلام کے خلاف بنائے گئے امن لشکر کے 7 کارندے گرفتار کیے جن میں سے اکثر بے ریش لڑکے ہیں اور ایک فوجی کی بدبودار لاش کو بھی بطور ثبوت اپنے قبضہ میں لے لیا،تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی حفظہ اللہ نے اس کاروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بدامنی کیلیے بنائے گئے ان لشکروں کے لوگوں کو خوب جھنجھوڑا،حقیقت یہی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے امراء امیر محترم حکیم اللہ محسود رحمہ اللہ امیر محترم شیخ فضل اللہ رحمہ اللہ سےلے کر حالیہ قیادت تک ان لوگوں کو یہی پیغام دیتے چلے آئے ہیں کہ آپ اس ناپاک فوج کی صف سے جدا ہوجائیں
جس طرح افغانستان میں صلیبی افواج مقامی فوجیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں اسی طرح بعینہ قبائلی علاقوں میں بنائے گئے بدامن لشکروں کو پاکستانی کی فلمی بہادر ناپاک فوج استعمال کرتی ہے
یہ امن لشکر والے کچھ تو وطن کی حفاظت کے نام پر گمراہ کیے گئے لوگ ہیں کچھ چور ڈاکو اور اچکے لوگ ہیں اور کچھ معاشرے میں فرعون بننے کے زعم میں مبتلا ایسے لوگ ہیں کہ جن کے ظلم سے طالبان نے عام مسلم عوام کو نجات دی تھی اور طالبان کے شریعت یا شہادت کے نعرے کی وجہ سے انکی ملکی خوانگی وغیرہ خطرے میں پڑنے لگی تھی اس لیے انہوں نے اس بے دین فوج کا ساتھ دیا سینکڑوں مجاھدین کو بے دردی سے شہید کیا انکے اہل خانہ کو ستایا انکی جاسوسی کی اور ان سے سابقہ رائل انڈین آرمی نے جانوروں کی طرح کام لیا اور لے بھی رہی ہے انکو مجاھدین کے مقابلے میں بطور ڈھال استعمال کیا ان سے بیگار لیا جاتا ہے انکے مورچے بنوائے جاتے ہیں رات کو ان سے بہادر فوج کے سپاہیوں کی پہرہ داری کا کام لیا جاتا ہے
چند خفیہ اطلاعات کے مطابق تو سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام لوگوں سے بھی یہ ناپاک فوج اپنی پہرہ داری کا کام لیتی رہی ہے باجوڑ سوات،دیر اور دیگر علاقوں میں جن اطراف اور راستوں سے اللہ کے شیروں کے آنے کا دھاڑنے اور حملہ آور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں باقاعدہ دنیا کی نمبر ون فوج کی حفاظت عام عوام کرتی ہے اور جو نہیں کرسکتا اس سے باقاعدہ پیسے وصول کیے جاتے ہیں!
یہ ہے کامیاب آپریشن کی حقیقت اور یہ ہے قبرستان کا امن
مجاھدین اسلام نے پہلے پہل ان لوگوں سے جنگ کرنے سے گریز کیا اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب ان کا تکبر سر چڑھ کر بولنے لگا تو اللہ کے فضل سے معاشرے کے سینکڑوں ناسورون کو نشان عبرت بنا دیا گیا،اسوقت سے انکی چیخیں بلند ہونے لگیں ہائے اپنی قوم کے لوگوں کو مار رہے ہیں اور انہوں نے اپنی جان بچانے کیلیے دیگر کئی چھتریوں کے نیچے چھپنے کی کوشش کی لیکن انکے ہاتھ پر سینکڑوں پاکیزہ مجاھدین کا خون لگا ہے جسے طالبان کیسے فراموش کرسکتے ہیں؟ان لوگوں کو قوم کا یہ احساس تب کیوں نہیں ہوا جب یہ اپنی ہی قوم کے لوگوں کے خلاف غیر قوم کا ساتھ دے رہے تھے؟
بس انکی خلاصی کی صورت صرف اور صرف توبہ ہی ہے
جس کی دعوت انکو طالبان 2008 سے تاحال دیتے چلے آرہے ہیں اس معاملے میں شیخ فضل اللہ رحمہ اللہ کے بیانات سب سے نمایاں ہیں،

محمد خراسانی صاحب کا مختصر پیغام دل کی آنکھوں سے آپ بھی ملاحظہ کریں
امن لشکر کے نام پر اسلام دشمن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے ان بے ریش لڑکوں کی تصاویر شائع کرنے کا مقصد ان سادہ لوح عوام کو سمجھانا ہے جن کے بچوں کو یہ کرائے کی قاتل فوج ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے، ان سے وہ کام بھی کرواتے ہیں جو وہ خود طالبان کے ڈر سے نہیں کرسکتے جیسے کہ ان کے ٹھکانوں کو راشن پہنچانا، ان کیلئے پانی لانا ، خاردار تار لگانا وغیرہ، اور جب اسی فوج کی دفاع میں ان کو طالبان کا سامنا ہوتا ہے تو یہی بے غیرت فوج دم دبا کر بھاگ جاتی ہے ،
محمد خراسانی صاحب کا پیغام دراصل ان امن لشکریوں کیلیے بہت اہم ہے کہ اپنا قبلہ ابھی سے درست کرلیں اور اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں کل کے رونے اور پچھتاوے سے آج آنکھیں کھولنا بہتر رہیگا، وگرنہ پھر بعد میں گلہ مت کرنا
اسی طرح پختون قوم کے حقوق کیلیے کوشاں عناصر کیلیے بھی کہ قوم ایک اس مصیبت میں گرفتار ہے جس سے خلاصی کیلیے اور اس کے بارے میں آواز بلند کرنے کیلیے بھی کچھ غور و فکر کی بھی ضرورت ہے

اسی طرح یہ ثبوت اور پیغامات صلیبی غلام غیرت فروش اسلامی انسانی اور حیوانی بے غیرت اور مرتد فوج کیلیے بھی خاص پیغام ہے کہ شرم کرو حیا کرو یہ تم لوگوں کی بہادری ہے کہ بارڈر پر خاردار باڑ لگانے کیلیے چھوٹے لڑکوں کو استعمال کرتے ہو تاکہ انکو ڈھال بنا کر اپنی کھوپڑیاں مجاھدین اسلام کی سنائپر شوٹنگ سے بچاسکو؟
یہ ہے تمہاری بہادری اسلام اور شریعت سے تو ویسے بھی آپکا کچھ لینا دینا نہیں کم ازکم اپنے بنائے گئے بہائمانہ قوانین کا تھوڑا سا لحاظ ہی کرلیں آپ کہتے ہیں کہ ہم اس علاقے میں عوام کی حفاظت کیلیے آئے ہیں تو پھر عوام آپکی حفاظت کیوں کررہی ہے صاحب بہادر؟؟

اللہ کرے کہ ہمارا یہ پیغام آزادی صحافت کے دعوے داروں،مدعیان انصاف،اور بڑے بڑے مذھبی حضرات اور کچھ بڑا بننے کے زعم میں مبتلاء حضرات تک بھی پہنچ جائے ….ارباب عقل و دانش پس پردہ یہ جو کچھ ہورھا ہے یاد رکھنا آپکا بھی اس میں مکمل حصہ ہے …اللہ رب العزت تو سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور سب کے حالات سے واقف ہیں آج نہیں تو کل ان شاءاللہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا،
لھذا انصاف کا خون مت کیجیے کل اللہ رب العزت کو جواب بھی دینا

شاید کہ کسی کے دل میں اتر جائے ہماری بات!

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے دیا جلا کر سرعام رکھ دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں