456

مولانا صوفی محمدرحمہ اللہ کی وفات پر تحریک طالبان پاکستان کا تعزیتی بیان…

اھل حق میں سے ایک اور شخصیت کا جنازہ جیل سے اٹھا

الحمد للہ رب العالمین،والصلوةوالسلام علی قائد المجاھدین،و علی آلہ و صحبہ اجمعین
ثم امابعد:فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کل نفس ذائقة الموت (الآیة)

گذشتہ کل پشاور جیل سے مولانا صوفی محمد صاحب رحمہ اللہ کی وفات کی خبر موصول ہوئی،یقینا یہ امت مسلمہ کیلیے بڑے غم اور صدمہ کا باعث ہے
مولانا صوفی محمد صاحب رحمہ اللہ نے پاکستان میں رائج برطانیہ کے چھوڑے ہوئے کفری جمہوری نظام کے خلاف 1989ء سے عملا دعوتی کام کے ذریعے اپنی جدوجہد شروع کی ایسے وقت میں یہ کام کرنا انتہائی مشکلات اور مشقت کا باعث تھا،یقینا آپ رحمہ اللہ اس عظیم کام کی وجہ سے ،افضل الجہاد من قال کلمة حق عندسلطان جائر کا مصداق ٹھہرے،
قریبا تیس سال کے لگ بھگ اس عرصہ میں موصوف کو انکے شرعی موقف کی وجہ سے انتہائی تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا، اسلام کے نام پر بنے ملک میں بلکہ اسلام کے قلعے میں انکو اسلامی نظام،شریعت کے نفاذ کیلیے آواز اٹھانے کی پاداش میں 17 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے اور آخر کار انکا جنازہ بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرح جیل سے نکلا اور اھل حق کی صف میں اپنا نام لکھواگئے

روش دھر کا ھر نقش پکارے گا مجھے
یہ مت سمجھو مجھی تک میراافسانہ ھے

پاکستان میں جو شخص بھی شریعت نے نفاذ کی آواز بلند کرے اگرچہ وہ لوگوں کے من مرضی کے مطابق بنائے گئے عرف عام یعنی پرامن طریقے سے ہی کیوں نہ ہو،تو اسے یا تو خود نام نہاد کلمہ گو شہید کردیتے ہیں یا شھید کروادیتے ہیں پا پھر عمر بھر کی گمشدگی اس مرد حر کا مقدر ٹھہرتی ہے یا پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس کی زندگی کے شب و روز کٹتے ہیں،اور بلآخر یا تو اسکا جنازہ جیل سے اٹھتا ہے یا پھر کسی جعلی پولیس مقابلے میں اس کی لاش کسی ویرانے سے ملتی ہے
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلباء و طالبات بھی اسلام کے قلعے میں اسلامی نظام کی آواز بلند کرنے کے جرم کی پاداش میں ہی شہادت کے جام پی گئے
سوات سے لے کر وزیرستان تک سینکڑوں مساجد اور مدارس کو اسی جرم میں شھید کیا گیا ہزاروں عام مسلمان اسی جرم کی پاداش میں شھید کردیے گئے اور لاکھوں ہجرت کی سختیوں،دربدریوں،تکالیف اور مصائب کو سہ گئے
ہمیں اللہ رب العزت سے کامل امید ہے کہ ان قربانیوں کا ثمر ضرور بارآور ہوگا اللہ رب العزت یہ سب قربانیاں اپنے دربار میں قبول و منظور فرمالیں

شریعت محمدی کے نفاذ کیلیے دیگر علماء،طلباء،مجاھدین،اور عامة المسلمین کی طرح ہم مولانا صوفی محمد صاحب رحمہ اللہ کی قربانی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
موصوف متبع سنت،پابند شریعت،صاحب استقامت اور دیگر کئی اچھی صفات کے حامل شخصیت تھے
اور ہم اس غم میں انکے لواحقین،اعزہ و اقرباء اور دوست احباب کے غم میں برابر کے شریک ہیں
اور ان سے ان شرعی کلمات کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں

ان للہ مااعطی،و لہ مااخذ،و کل شیئ عندہ باجل مسمی فلتصبر و التحتسب

اللہ رب العزت انکی بخشش و مغفرت فرمائیں،انکے درجات بلند کریں،

آمین

۹ ذی القعدہ ۱۴۴۰ ھ
بمطابق ۱۲ جولائی ۲۰۱۹ ء

#Muhammad_Khurasani
#taziyat
#maulana_Soofi_Muhammad
@umarmedia

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں