588

مفتی تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے مذمتی بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کل بروز جمعة المبارک شہر کراچی میں ایک عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم کراچی کے رئيس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب پر قاتلانہ حملہ ہوا…جس میں وہ بال بال بچ گئے…
اس حملے کے بعد میڈیا کے بعض جادوگروں نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلیے یا کسی خفیہ ہاتھ کے اشارے پر اس کاروائی کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش کی تاکہ چند ٹکوں کی تنخواہ کے مستحق ہوجائے….
ہم اس حملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور صحافت کے نام پر سیاہ دھبہ لگانے والے چند ٹکوں کی خاطر اپنا ضمیر بیچنے والے صحافیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ان جیسے پروپیگنڈوں سے اجتناب کریں
اور مذھبی طبقے کو بھی آنکھیں کھولنے کی اور حالات اور سازشوں کو سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں
یہ نہ ہو کہ پانی سر سے گزر جائے تب جاکر آپ ہوش میں آئیں
اللہ رب العزت تمام عالم اسلام خصوصا علماء حق کی حفاظت فرمائیں

محمدخراسانی
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان
۱۷ رجب المرجب ۱۴۴۰
۲۳ مارچ ۲۰۱۹

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں