416

مسئلہ تکفیر اھل قبلہ از مولانا یاسر صاحب

🌼مسئلہ تکفیر اھل قبلہ🌼

از مولانا یاسر صاحب حفظہ اللہ
اردو ترجمہ (ابن محمد)

#عمر ریڈیو ایف ایم کے پروگرام سے اقتباس

سوال از فیصل شھزاد صاحب…الحمدللہ تحریک طالبان پاکستان کی قربانیوں کا نتیجہ کافی حد تک ظاھر ھوچکا ھے اکثر لوگ سمجھ چکے ھیں کہ پاکستانی ریاست ایک دجالی ریاست ھے اور فوج اور خفیہ ادارے اس زمین پر موجود بدترین بے دین و مرتدین ھیں!لیکن پھر بھی بعض لوگ شکوک و شبہات پیش کرتے ھیں جن میں بنیادی کردار دجالی میڈیا،اور علماء سوء کا ھے
لھذا اس بارے میں ایک سوال پوچھنا چاھوں گا کہ اھل سنت والجماعت کا صحیح منھج اور عقیدہ ھے کہ اھل قبلہ کا قتل جائز نھیں اور انکی طرف کفر و ارتداد کی نسبت نھیں کی جاسکتی!
جبکہ فوج اور دوسرے اداروں کے لوگ اھل قبلہ ھیں،کلمہ پڑھتے ھیں ،نماز پڑھتے ھیں،ان میں برائے نام علماء سوء بھی شامل ھیں جنھوں نے شرعی علم حاصل کیا ھے اور اپنے فاسد نظریے پر برائے نام دلائل بھی پیش کرتے ھیں ،تو آپ ان کو کیوں مرتد،سمجھتے ھیں اور قتل کرتے ھیں؟؟؟

جواب از مولانا یاسر صاحب حفظہ اللہ…
محترم بھائی آپکا سوال اپنی جگہ بالکل درست ھے البتہ اس کے بارے میں تحقیق کرنا،اور اسے اس حد تک پھنچانا،کہ ھر مسلمان حق کو جان لے انتھائی ضروری ھے
اھل السنت والجماعت یعنی وہ لوگ جو قرآن وحدیث پر عمل پیرا ھیں جتنے علماء گذر چکے ھیں میں نے انکی کتابوں کو دیکھا ھے تقریبا تمام کتب میں یہ متفقہ عقیدہ لکھا ھوا ھے
لاَنُکفِّرُ اھلَ القِبلةِ
جو لوگ قبلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ھیں وہ مسلمان ھیں انکی طرف کفر کی نسبت کرنا شرعا جائز نھیں ،اور یہ سرکاری فوجی اھلکار،حکومتی،جمھوری،لوگوں کی اکثریت قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ھیں،لھذا سوال اپنی جگہ درست ھے
اور یہ عقیدہ حدیث شریف سے ثابت ھے جیسا کہ بخاری میں ھے
مَن صلّی صلوتَناَ،وَاستقبَلَ قبلتَناَ،فذلک المُسلِمُ الذی فی ذمَّةِ اللہ و ذِمَّةِ رسولہ،
جو ھماری طرح قبلہ کی طرح منہ کرکے نماز پڑھے وہ مسلم ھے اور اللہ اور اللہ کے رسول کے ذمے میں ھے
اب اسکا مطلب قرآن وسنت کی روشنی میں یہی ھے کہ اس شخص کا جان و مال محفوظ ھے اور اسے قتل جائز نھیں
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
لاَتُخفِروُا فی ذِمَّةِ اللہ..
اللہ کے ذمے میں خیانت مت کرو،
اب چونکہ حدیث میں واستقبل قبلتنا آیا ھے تو اس سے اھل قبلہ کی اصطلاح نکلی ھے لیکن اھل قبلہ ھیں کون؟؟؟
پھلے اس بات کی طرف آتے ھیں!

فیصل شھزاد صاحب…یھاں پر میری تمام سامعین سے گزارش ھے کہ اس مسئلہ کو غور سے سنیں اور چاھیں تو ریکارڈ بھی کرلیں خاص کر وہ لوگ جو ان مرتدین کو مسلمان سمجھتے ھیں اور اگر کوئی اسکا رد (جواب)بھی لانا چاھے تو ضرور لائے دلیل کے ساتھ…لیکن کوئی نھیں لاسکتا اسلیے کہ پوری دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ایک جیسی ھے الحمدللہ مولانا صاحب مکمل دلائل سے یہ مسئلہ بیان فرمارھے ھیں!!!

مولانا یاسر صاحب..مسئلہ چونکہ تحقیقی اور تفصیل طلب ھے لھذا میں مختصرا عرض کرونگا ،اھل قبلہ کا صرف یہ معنی نھیں کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ھیں بلکہ اھل قبلہ کا معنی”مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ”نے ” اِکفَارُ المُلحِدِین”میں یوں کیا ھے دیگر فقھاء اور محدثین کے حوالہ جات سے..

(1) اَھلُ القِبلةِ مَن یُّصَدِقُ بِضَرُورِیَّاتِ الدِّینِ
دین کی جو چیزیں قطعی طور پر ثابت ھیں ان تمام کو جس طرح اللہ نے حکم دیا ھے ماننے والا اھل قبلہ میں شمار ھوگا
تو اھل قبلہ کا کیا معنی ھوا!؟
قبلہ کی طرف چھرہ کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ان عقائد کو بھی ماننا جو شرعی،قطعی،دلائل سے ثابت ھیں!لھذا اس جیسے شخص کو قتل کرنا اور کافر کھنا شرعا جائز نھیں!
اب آتے ھیں پاکستانی مرتد فوج اور حکومت کی طرف

میں نے پھلے عرض کیا کہ ان تمام ضروریات دین کو ماننا جو قطعی طور پر ثابت ھیں چاھے انکا تعلق حلت (حلال)سے ھو یا حرمت سے ھو
اب دیکھیں شراب حرام ھے!
قرآن کھتا ھے.. اِنَّماَالخَمرُ وَالمَیسِرُ والانصَابُ والاَزلاَمُ رِجسٌ مِن عملِ الشیطنِ فاَجتنِبُوُہ الآیة
لیکن پاکستان میں تو قانونا شراب حلال ھے!اور یہ لوگ (فوجی وغیرہ)اسی قانون کی حفاظت پر مامور ھیں اور جو لوگ اس قانون کی مخالفت کرتے ھیں جیسے تحریک طالبان پاکستان تو یہی فوجی انکے خلاف جنگ میں مصروف ھیں!یہ بات تو میں نے بطور مثال کے کھی ھے

(2)ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقاة”شرح،مشکوة”میں اسی حدیث (واستقبل قبلتنا)کے ذیل میں لکھا ھے ..
کہ جو کلمہ کا اقرار کرتا ھے لیکن شریعت کے اصولوں کو اپنے اوپر لازم نھیں سمجھتا اس سے بڑا کافر کوئی نھیں..
عَدَمُ تَکفِیرِ اھلِ القبلة المُقِرِّینَ بِالتَّوحِید،ِ المُلتَزِمِینِ بِالشَّرَائع
اھل قبلہ کی عدم تکفیر کی وجہ توحید کا اقرار اور شریعت و قانون اسلام کے تمام تر اصول و احکامات کاالتزام ھے جبکہ یہ لوگ شریعت کو کھاں مانتے ھیں؟؟؟
(3)اسی طرح علماء نے لکھا ھے

اَھلُ القبلة غَیرُ کافرِینَ مالم یُخالِف ماھوَ مِن ضُرُورِیَّاتِ الدِّینِ الحقِّ.
دین حق کے مسائل اور احکام کی جب کوئی مخالفت نھیں کرتا وہ اھل قبلہ میں سے
اب آپ بتائیں یہ مرتدین مخالفت کرتے ھیں کہ نھیں؟اگرنھیں کرتے تو ھمیں بتائیں ھم انکا پیچھا چھوڑ دیں گے مزید اس مسئلہ کی خوبصورت وضاحت ”التیسیر بشرح جامع الصغیر میں بھی موجود ھے
(4)اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی جلد اول ص اور شاہ صاحب نے اکفار الملحدین ص میں بھی لکھا ھے
لاَخِلَافَ فِی کُفرِ المُخَالِفِ فی ضُرُورِیَّاتِ الِاسلَامِ واِن کَانَ مِن اَھلِ القِبلةِ،المُواظَبَةِ لِعُمُرِہ علی الطاعةِ
اگر کسی نے دین اسلام کے کسی ایک مسئلے کی مخالفت کی اگرچہ وہ ساری زندگی اسلام پر عمل پیرا رھا ھو تو اسکے کافر ھونے میں کسی کا اختلاف نھیں،
(5)احناف کی مشھور کتاب،شرح عقیدة الطحاویة،جسے سب لوگ جانتے ھیں اور جس میں مسلمانوں کا صحیح عقیدہ بیان ھوا ھے اس میں لکھا ھے..
منِ استقبلَ القبلةَ حُکِمَ بِاَنَّہٗ مُسلمٌ ثُمَ نَظَرَ ھَل یَأتِی بِمَا بَقِی ؟فاِن اتَی بِماَ بقِیَ جَرَی علیہ حُکمُ الاسلام ،وان امتنع عمَّا بقِیَ مما یجب علیہ کان مُرتدَّا
استقبال قبلہ کے بعد دیکھا جائے گا اسلام کے بقایا احکامات کی بجاآوری بھی کرتا ھے کہ نھیں اگر کرتا ھے تو مسلمان اور نھیں کرتا تو مرتد..

(6) لانُخرِجُ احدًامِّن اھل القبلةِ من الاسلام حتّی یَرُدَّ آیةً مِّن کتاب اللہ او یرد شیئً من آثار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقد وجب علیک ان تخرُجَہ من الاسلام
جب قرآن کی کسی آیت کو کوئی رد کردے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کسی عمل کو تو لازم ھوجاتا ھے کہ اسے اسلام سے خارج کردیا جائے اور یہ بھی لکھا ھے کہ اگر اللہ کا قرب چاھتے ھو تو انکا بائیکاٹ کردو انکے خلاف جھاد کرو اس مسئلہ کی مکمل صراحت شرح السنة جلد اول میں موجود ھے
اب دیکھیں اس پاکستانی مرتد فوج اور حکومت نے ایک آیت نھیں پوری کتاب اللہ کے خلاف ایک الگ نظام بنا رکھا ھے بلکہ اللہ کے دین کے خلاف برسرجنگ ھیں اور جو کتاب اللہ کو ماننے اور تنفیذ،کی بات کرتے ھیں تو یہ ان سے جنگ کررھے ھیں!
(7)اسی طرح شاہ صاحب رحمہ اللہ اکفارالملحدین ص پر فرماتے ھیں …
انَّ المُرادَ بِعَدَمِ تَکفِیرِ اھل القبلةِ عِندَ اھل السنة انہ لایکفَّرُ ٌ مالم یُوجَد شیئ من اَمَارَاتِ الکُفرِ وعَلاَمَاتہ
اھل قبلہ تب تک مسلمان ھیں جب تک کفروارتداد کی علامات موجود نہ ھوں اگر ھوں تو خوامخواہ انکو کافر کھاجائیگا
(8)اور آخری بات ذکر کرنا چاھوں گا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی جلد ۸ میں لکھا ھے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام نے مرتدین سے قتال کیا…
واِن کانواُ یُصَّلُّونَ الخَمسَ،ویصومون شَھرَ رَمَضَانَ،ویحجُّونَ البَیتَ،
وہ لوگ پانچوں نمازیں پڑھتے تھے،رمضان کے روزے رکھتے جو آجکل کے مسلمان کھاتے ھیں پنجاب والے کھاتے ھیں.رمضان جانڑیں تے پٹھان جانڑیں خیر آجکل تو پٹھان بھی روزے کھاجاتے ھیں!
کچھ دن پھلے میں نے عرض کیا تھا کہ صحابہ کرام کا ان لوگوں کے خلاف اجماع ھوا تھا
وان تکلمت بالشھادتین اگرچہ وہ کلمہ پڑھتے پانچ وقت کی نمازیں پڑھتے رمضان کے روزے رکھتے بیت اللہ کا حج کرتے لیکن انھوں نے ضروریات دین میں سے زکوة کی خلیفہ وقت کو ادائیگی سے انکار کیا تھا
خلاصہ کلام…اھل قبلہ کیلیے صرف قبلہ کی طرف چھرہ کرکے نماز پڑھنا ھی شرط نھیں بلکہ ضروریات دین کو ماننا بھی شرط ھے،اب آپ خود فیصلہ فرمائیں حکومت،فوج،اور دیگر ادارے ضروریات دین قوانین اسلام کا انکار نھیں کررھے؟؟بلکہ اس کے خلاف برسرجنگ ھیں!!!
اللھم ارناالحق حقا،ورزقنااتباعہ،وارناالباطل باطلا،وارزقنااجتنابہ،
آمین یا رب العالمین

#UMARMEDIA
#UMARRADIOFM
#TTP

www.umarmdiattp.com

@umarmedia14
@umarradiofm_01

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں