451

فرشتہ مہمند بھی کسی کی بیٹی تھی!!

فرشتہ مہمند بھی کسی کی بیٹی تھی!!
گزشتہ کئی سالوں سے پشتون قوم کو زیر کرنے کی کوشش جاری ہے اسی قوم کی نسل کشی کی خاطر ان کو دہشت گردی کے نام پر گولہ باری اور جیٹ بمبارکا نشانہ بناتے ہیں جس میں بچے بوڑھے اور عورتیں وافر مقدار میں شہید ہوتے ہیں اور ان کی کفالت کرنے والے نوجوان نسل کو گرفتاری کے نام پر غائب کردیتے ہیں جن کا سالوں سال کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کس جیل میں کس جرم کی سزا بھگت رہاہے لیکن یہی حقیقت نہ تو کسی اخبار کی سرخی بنی نہ ہی کسی ٹاک شو کی موضوع بنی۔
پنجاب کی بیٹی زینب کے ساتھ زیادتی پہ ہمیں حد سے زیادہ افسوس ہے اور ہم نے مذمتی بیان بھی دیا تھا مگر افسوس اس بات کی ہے کہ زینب سانحے پر اسمان سر پر اٹھانے والی میڈیا فرشتہ مہمند کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر کیوں خاموش ہیں؟؟؟ صرف اسی لیے کہ فرشتہ مہمند پشتون تھی؟ کیا پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہی پاکستان کے اصل بیٹے ہیں کیا پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کے جسم میں خون نہیں؟؟ کیا وہ بغیرماں باپ کے ہیں؟؟ کیا وہ بھائی بہن نہیں رکھتے ؟؟ یا ان کا دل نہیں یا لوہے کا بنا ہوا ہے؟؟ ان سوالوں کا جواب ہے کسی کے پاس؟؟؟
کہاں گئے وہ دومنٹ بعد زینب قتل کی فوٹیج چلانے والے؟؟ کہاں گئے وہ اسمبلی میں دھواں دار بیان دینے والے؟؟ کہاں ہیں طالبان کو خوارج کہنے والے وہ علماء جو چند روپوں کی خاطر اپنی مرضی کے فتوے بیچتے ہیں، کہاں ہیں وہ لوگ جو اسلامی حدود اور تعزیرات پر اعتراض کرتے نہیں تکتے کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی ظلم ہوسکتاہے جوکہ مختصر عرصے میں تقریباً گیارواں کیس ہے، فرشتہ مہمند کی بہیمانہ قتل پر ان سب کی خاموشی اور قاتل کا معلوم نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس بچی کو انہی حکمرانوں، سیکیورٹی اداروں اور انہی خاموش بیٹھے علماء سوء نے ہی قتل کیا۔۔
تحریک طالبان پاکستان دلوں کو چیرنے والے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور فرشتہ مہمند کے اہل خانہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان شاءاللہ اس جرم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی حتی الوسع کوشش کرے گی ۔۔
محمد خراسانی
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان
۲۱ مئی ۲۰۱۹ بمطابق ۱۶ رمضان المبارک ۱۴۴۰

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں