486

عید الفطر پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاکستان کے تمام مسلمانوں کو عموماً اور طاغوتی فوج کے ظلم وجبر کے شکار مظلوم پشتون، بلوچ اور قبائلی مسلمانوں، قیدیوں اور مجاہدین کو خصوصاً عید الفطر کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔

اللہ تمام مسلمانوں کے روزے، اعتکاف اور دیگر عبادات اپنے دربارِ عالیہ میں قبول ومنظور فرمائیں (آمین ثم آمین)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب کے تکالیف وابتلاءات کو اسلامی نظام کی روشنی اور ہمہ جہت آزادی سے تبدیل کریں(آمین ثم آمین)

محترم مسلمانو اور عزیز ہم وطنو! جیساکہ آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ گزشتہ ۱۲ سال سے تحریک طالبان پاکستان کے اُولو العزم مجاہدین اور پاکستان کی اسلام دشمن فوج کے درمیان خونی معرکہ جاری ہے۔

مذکورہ معرکہ جتنا طول پکڑتا جارہاہے اتنی ہی کرایہ دار فوج کی حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان، پہلے دن سے یہ کہتے چلی آ رہی ہے کہ پاکستان کے غیر طبعی وفاق، نظریہٴ پاکستان کی مرہونِ منت ہے، لیکن گزشتہ ستر سالوں سے قابض طاغوتی فوج نے اپنے کردار سے یہ بات خوب واضح کی ہے کہ نظریہٴ پاکستان سے فاداری اور اس کی تطبیق کی بات ناقابلِ معافی جرم ہے۔

جو بھی شخص نظریہٴ پاکستان کی تطبیق کی بات کرتا ہے، کرایہ دار فوج اس کے خلاف انتہائی قدم اٹھاتی ہے۔

فوج اور مسلط طاغوتی اسٹیبلشمنٹ کے ۷۰ سالہ خونریز اسلام دشمن کردار وسیاست کے تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی فوج نے پاکستان کے وفاق کو بر قرار رکھنے کی قانونی واخلاقی حیثیت ختم کر دی ہے۔

پشتون قوم کو آزادی تقسیمِ ہند کے نتیجے میں نہیں ملی، بلکہ پشتون قوم کے آباوٴ واَجداد کے مبارک جہادی سلسلوں کے نتیجے میں ملی ہے۔

پشتون قوم نے نظریہٴ پاکستان کے تشہیر کے بعد ایک تعاہد کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ہے۔

محمد علی جناح نے دو مشہور دینی شخصیات (حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اور مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ) کو یہاں (پشتون وطن ) بھیجا،انہوں نے قریہ قریہ، گاوٴں گاوٴں، لوگوں سے اس عہد کا ذکر کیا جس کا ذکر محمد علی جناح نے دہلی میں اپنے گھر پر ان دونوں حضرات سے کیا تھا (کہ آزاد پشتون وطن کے مسلمان پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں کیونکہ یہاں پر اسلامی نظام ہوگا)۔

پشتون قوم نے اس تعاہد کے تناظر میں الحاق کا فیصلہ کیا، اور یہی حال دیگر اقوام کا بھی ہے کہ وہ بھی نظریہٴ پاکستان کے نعرے کی وجہ سے پاکستان کے نام پر جمع ہوئے،ورنہ پاکستان میں آباد اقوام کو پاکستان کی نہ سیاسی ضرورت تھی نہ اقتصادی اور نہ جغرافیائی۔

بلکہ ان کو جمع کرنے کی ایک ہی وجہ تھی کہ ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ (یعنی پاکستان میں اسلامی نظام ہوگا)۔

جب فوج، اسٹیبلشمنٹ، نظریہٴ پاکستان سے دشمنی کے لیے تمام قربانیوں، بدنامیوں اور ظلم ڈھانے کے لیے تیار ہے اور مذکورہ سب کچھ کیا بھی ہے، تو پاکستانی وفاق کا قانون واخلاقی حیثیت ختم ہو چکی ہے، ہر ملک کی فوج اس ملک کے بنیادی نظریات اور سرحدات کی محافظ ہوتی ہے، لیکن ملک کے وزیر اعظم اور فوجی آفیسرز بار بار علناً وجہراً کہتے آرہے ہیں کہ ہم نے گزشتہ ۱۵ سال سے امریکی مفاد ات کے لیے کرایہ کی جنگ اپنے ہم وطنوں پر مسلط کی ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ ۷۰ ہزار پاکستانی مسلمانوں کو ڈالر کے لیے شہید کیا گیا)۔ جب کسی ملک کی فوج ایسی ہو اور اس شرم ناک کردار کے تذکرے پر شرم وحیا کے احساس سے بھی عاری ہو تو وہ فوج ملک کی وحد ت و وفاق کی علامت نہیں، بلکہ ملک توڑنے اور تقسیم ہونے کی بنیاد ہوتی ہے۔

لہٰذا تحریک طالبان پاکستان کے جاری دفاعی جہاد (جو کہ ملک کے معتبر پانچ سو علماء کرام کے فتویٰ کی روشنی میں شروع کیا گیا تھا) اپنے شرعی اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

پاکستان کی طاغوتی کرایہ دار فوج نے ہمارے دین، عقیدہ، عزت وناموس اور آزاد وطن پر حملہ کیا ہے۔

ہم بہر صورت اپنی پاک سرزمین کو اس اسلام دشمن وپشتون دشمن فوج سے آزاد کرائیں گے۔

آزاد قبائل کے پشتون وطن کو ڈیورنڈ کے غیر طبعی وغیر قانونی معاہدے کے تناظر میں بھی برطانونی ہند (موجودہ پاکستان) اور افغانستان کے درمیان حدِّ فاصل قرار دیا گیا تھا۔

اس آزاد وطن پر اولاً فوجی قبضہ کرنا اور ثانیاً اس کا انضمام کرنا کسی بھی صورت میں ناقابلِ قبول ہے۔

پاکستان کی طاغوتی فوج کو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

پشتون قوم پر ظلم وبربریت کی جو تاریخ رقم کی جارہی ہے، اس کی نظیر پشتون تاریخ میں ملنا مشکل ہے، کیونکہ پاکستان کی طاغوتی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آئے دِن اس کے نوجوان قتل کر رہے ہیں، لاپتہ کرکے ان کی لاشوں کو مسخ کرکے پھینک رہے ہیں، رات کی تاریکی میں اس کی عزت وناموس پر ہاتھ ڈال رہے ہیں، ان کے پُر امن عوام کو اپنے حقوق مانگنے پر شہید کر رہے ہیں، ان کے مدارس، مساجد اور بازاروں کو بلڈوز کررہے ہیں اور اس پر بس نہیں یہاں تک کہ انہیں اپنے محبوب آزاد وطن سے بے دخل کرنے کا سلسلہ تاحال جاری رکھا ہے۔ خلاصةً ہم کہہ سکتے ہیں پاکستانی ظالم فوج کی جانب سے ہر نئی صبح پشتون قوم کی تاریخ میں ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے جانے کے ایک نئے باب کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

یہ تمام صورت حال پوری پشتون قوم کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی سابقہ اجتماعی پالیسی اور وفاداری پر از سرِ نو غور کریں، کیونکہ پشتون بحیثتِ قوم دین ومذہب کے وفادار ہیں، اُن کے یہاں دین و مذہب اور اپنی عزت وناموس سے وفاداری ہر چیز پر مقدّم ہے۔

اس لیے اس بے حیا، غدار اور کرایہ کی قاتل فوج کو توڑنا تمام مشکلات کا حل ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ ان شاء اللہ اس طاغوتی قاتل فوج کو اپنے اسلامی وطن سے ایسے نکالیں گے جیسے ہمارے آباوٴ واَجداد نے اس فوج کے باپ دادا (فرنگی سامراجی فوج) کو بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔ان شاء اللہ۔

والسلام

مفتی  ابو منصور  عاصم مسعود

امیر تحریک طالبان پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں