232

عید الاضحیٰ پیغام از طرف امیر تحریک طالبان پاکستان

تمام مسلمانوں كو عموماً اور مملكتِ خداداد پاكستان میں آباد مظلوم اقوام خصوصاً پشتون وبلوچ قوم كو خصوصاً عید الاضحى كے مبارك دِن آنے پر مبارك باد پیش كرتا ہوں، اللہ آپ حضرات كی قربانیاں اور عید الاضحى كے دوسرے نیك اعمال اپنے دربارِ عالیہ میں قبول ومنظور فرمائے۔ (آمین)
عزیز ہم وطنو! پاكستان ایك عظیم نعرے، وعدے اور تعہد كے نتیجےمیں وجود میں آیا تھا (كہ پاكستان كا مطلب كیا لا الہ الا اللہ)مطلب یہ ہے كہ پاكستان كے وجود، استقلال اور آزادی كا مقصد اسلامی نظام تھا، اسی وعدے اور تعہد كے نتیجے میں خطے میں آباد بڑى بڑی قوموں نے پاكستان كے ساتھ الحاق كا فیصلہ كیا، ورنہ پاكستان كے ساتھ الحاق كا ان اقوام كو نہ كوئی اقتصادی ضرورت تھی، نہ عسكری، نہ جغرافیائی اور نہ لسانی۔
مسلمانانِ ہندوستان كی تقسیم غازیوں اور آزاد پشتونوں كا الحاق صرف اس لیے تھا كہ پاكستان اسلام كے عادلانہ نظام كے لیے وجود میں آرہا ہے، اسی تعہد كے لیے پونجا كے سیكولر بیٹے محمد علی نے اس زمانے كی بلند پایہ اكابر (حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اور مفتی اعظم پاكستان محمد شفیع رحمہ اللہ) كو پشتون كے آزاد وغازی وطن كی طرف بھیجا، یہ دونوں حضرات قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں دورے كرنے لگے۔ پشتون چونكہ اپنی دینی فطرت كی اساس پر علماء كرام اور بالخصوص اكابر علمائے دیوبند (كثر اللہ سوادهم) كے بے حد قدردان ہیں اس لیے ان كی یقین دہانی پر پاكستان كے ساتھ الحاق كا فیصلہ كیا، ورنہ پشتون كہاں اپنى آزادی اور اسلامی تشخص (جسے انہوں مسلسل غزاؤوں اور جہادی سلسلوں كی بدولت بر قرار ركھا تھا) پونجا جناح كے سیكولر بیٹے محمد علی كی جولی میں ڈالنے كے لیے تیار تھے۔
بد قسمتی سے ہوا وہی جو كہ اُس وقت كے اونچے درجے كے بعض اولیاء اللہ اور علماء كرام نے بار بار اظہار كیا تھا كہ پاكستان اسلامی نظام كے لیے نہیں بنایا جا رہا، بلكہ یہ ایك سازش ہے جس كے ذریعے ایك طرف مسلمانانِ ہند كو تقسیم كیا جار ہا ہے اور دوسری طرف برطانوی انخلا كے بعد اسلامی نظامی كے امكانات كو روكا جا رہا ہے۔
پہلے دن سے نو مولود پاكستان (جو كہ دھوكہ كی بنیاد پر وجود میں آیا تھا) پر فرنگی سامراج كی تربیت یافتہ غلام فوج (جسے ”رائل انڈین آرمی“ كہا جاتا تھا اور آج كل پاك فوج كے نام سے متعارف ہے) نے قبضہ كیا اور سب سے زیادہ توجہ اس كام كی طرف دی كہ ایسا نہ ہو یہاں خدائی قانون نافذ ہو جائے اور ایك حقیقی اسلامی معاشرہ تشكیل پائے، اس لیے انہوں نے ہر اُس نعرے، آواز اورتحریك كو دبایا جس نے قیامِ پاكستان كے تعہد كو عملی پہنانے كی بات كى ہے۔
اسی طرح پہلے ہی دن سے پڑوسی ملك افغانستان میں مسلسل دخل اندازى كی پالیسی اپنائی اور عالمی كفری طاقتوں كے اشارے اور تعاون پر افغانستان كو ہمیشہ غیر مستحكم كیا، اور اس سے بھی ان كا مقصد اسلامی نظام كی راہ روكنا ہے۔
تب ہی تو امارتِ اسلامی (افغانستان) كے سقوط میں بنیادی كردار پاكستان كے اربابِ اقتدار نے ادا كیا، مجاہدین اسلام اور امارتِ اسلامی كے مناصرین ومعاونین كو گرفتار كركے امریكا كے ہاتھوں فروخت كیا، امریكی آڈر كے نتیجے اور ڈالر كمانے كی خواہش میں آزاد قبائل اور پختونخوا كے دوسرے علاقوں میں وحشیانہ فوجی آپریشنز كیے، مساجد ومدارس كو بلڈووز كیا، بعض مشہور ومعروف دینی مدارس كو تبدیل كركے كالج بنایا۔علماء كرام اور مشائخ عظام كو بے دردی سے شہید كیا، ہزاروں كی تعداد میں راسخ العقیدہ مسلمان نوجوانوں كو لا پتہ كیا، (جن كى اكثريت تا حال لا پتہ ہے) اور ہزاروں كو جعلی پولیس مقابلوں میں شہید كیا (اور یہ ظالمانہ سلسلہ تا حال جاری ہے) بلوچ قوموں كے سپوتوں كے ساتھ بھی یہی ظالمانہ اور وحشیانہ سلسلہ چل رہا ہے۔
قبائلی عوام كو وحشت وبربریت كے ذریعے دبانے كی سرتوڑ كوشش كی، حتى كہ فوجی دباؤ كےتحت ان كے آزاد اسلامی وقبائلی تشخص كو ختم كركے كفری جمہوری نظام میں ضم كر دیا، حالانكہ آزاد قبائلی پٹی ڈیورنڈ كے غیر فطری ظالمانہ معاہدے كے تناظر میں بھی برطانوی ہند (موجودہ پاكستان) اور افغانستان كے درمیان حدِ فاصل تھا اور قیامِ پاكستان كے بعد مذكورہ بات كی دوبارہ توثیق پاكستان كے پہلے گورنر جنرل محمد على جناح اور اُس وقت افغانستان كے وزیر اعظم نے كراچی میں كی۔
ناپاك فوج نے اپنے تاریخی غدر كی بنیاد پر وفاقِ پاكستان كے اخلاقی جواز كو ختم كیا ہے، پاكستان كا غیر طبعی وفاق نظریۀ پاكستان كی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور یہ نعرہ گزشتہ 72 سال میں عملی نہ ہو سكا، بلكہ جب بھی كس نےنظریۀ پاكستان كو عملی جامہ پہنانے كے حوالے سے بات كی ہے تو اسلام دشمن فوج اور اس كے خفیہ اداروں نے اس كے خلاف انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں كیا ہے۔

كچھ ہی عرصہ قبل ملك كے بہت بڑے عالمِ دین اور عالَمِ اسلام كی معروف علمی شخصیت، حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ نے ایك كانفرنس میں علماء كرام سے مطالبہ كیا تھا كہ تمام دینی طبقات تحریكِ ختمِ نبوت كی طرح اسلامی نظام كے نفاذ كے لیے ایك صف میں كھڑے ہو جائیں۔ لیكن اس مطالبے كے كچھ ہی عرصہ بعد حضرت پر ناپاك وغدار فوج كے خفیہ اداروں نے خطرناك قاتلانہ حملہ كیا، جس میں وہ (الحمد للہ) بال بال بچ گئے۔
اللہ سبحانہ وتعالى ہمارے تمام اكابر (بشمول حضرت شیخ الاسلام)كی حفاظت فرمائے۔ (آمین)
میرے عزیز ہم وطنو! پاكستان كی غدار فوج نے “پیغامِ پاكستان” نامی گمراہ كُن اعلاميے پر سینكڑوں علمائے كرام اور مشائخِ عظام سے جبری دستخط لیے ہیں، اس گمراہ كُن بیانیہ كی ترویج كے لیے جابجا كانفرنس منعقد كیے جا رہے ہیں اور علمائے كرام كو مجبور كیا جا رہا ہے كہ مذكورہ گمراہ كن بیانیہ كے حق میں تقریر كریں اور ناپاك فوج كے اس اسلام دشمن بیانیے اور پالیسیوں سے جو بھی شخص سو فیصد تعاون نہیں كرتا تو وہ نہایت بے دردی كے ساتھ شہید كیا جاتا ہے، مشہور جہادی شخصیت مولانا كمانڈر عبد الجبار كی مظلومانہ شہادت اس سلسلے كی ایك كڑی ہے۔
الحمد للہ! تحریك طالبان پاكستان گزشتہ 12 سال سے ان اسلام دشمن پالیسیوں، اقدامات، اور فوجی قبضے كے خلاف مقدس ومبارك جہاد میں مصروفِ عمل ہے، جس میں (الحمد للہ) اس اسلام دشمن فوج كے سینكڑوں آفیسرز، اور ہزاروں غلام سپاہی اپنے منطقی انجام تك پہنچ چكے ہیں اور ان شاء اللہ اپنے شرعی اہداف كے حصول تك ہمارا مقدس جہاد جاری رہے گا۔
ملك كے طول وعرض میں ہماری مسلسل جہادی كارروائیاں سے پریشان ہو كر فوجی ادارے مردار فوجیوں كے حق میں بعض علمائے كرام سے جبری بیانات لے رہے ہیں، ہم اپنے اساتذہ اور اكابر كو خوب جانتے ہیں، ان بیانات كے حوالے سے ہم ان حضرات كو مجبور ومُكرَہ سمجھتے ہیں، كیونكہ سب ہى جانتے ہىں جانتے ہیں كہ انكار كی صورت میں ان كا انجام مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ اور مولانا كمانڈر عبد الجبار شہید رحمہ اللہ كی طرح ہوگا، لہذا مجاہدینِ اسلام اس حوالے سے پریشان نہ ہوں،اور اپنے اكابر كے حوالے سے بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں۔
الحمد للہ! ہمارے مبارك جہاد میں ہمارى غازی ومجاہد قوم بڑی معاون ومددگار رہی ہے، اور وہ وقت دور نہیں كہ اللہ كے فضل اور اپنی مسلمان قوم كی مدد سے ہم اس ناپاك وغدار فوج كو اپنى پاك سرزمین سے بھاگنے پر مجبور كریں گے۔ (ان شاء اللہ)
ہم ملك كے تمام راسخ العقیدہ مسلمانوں بالخصوص دینی طبقات كو دعوت دیتے ہیں كہ جتنا ممكن ہو اس اسلام دشمن فوج كے خلاف نظریۀ پاكستان كو عملی جامہ پہنانے اور اسلامی معاشرے كی تشكیل كے لیے تحریك طالبان پاكستان كے مقدس جہاد میں تعاون كریں، كیونكہ اس مبارك جہاد میں دینی اقدار ومقدسات كا تحفظ ہے، اس جہاد ہی كی بدولت سیكولرزم كے خطرناك سیلاب سے نوجوان نسل كو بچایا جا سكتا ہے اور آئندہ نسلوں كے ایمان واسلام كا تحفظ ہو سكتا ہے۔
والسلام
آپ كا بھائی
ابو منصور عاصم محسود
امیر تحریك طالبان پاكستان

TTP

Supreme_Commander

Eid_ul_Azha

Special_Message

@umarmedia

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں