199

سلسلہ جہاد پاکستان پر اعتراضات کا علمی جائزہ(گیارہویں نشست)(پشتو)


سلسلہ جہاد پاکستان پر اعتراضات کا علمی جائزہ(گیارہویں نشست)(پشتو)🎤

جوابات از شیخ ابومحمد خالد حقانی حفظہ اللہ

سوال نمبر 11

بعض معترضین کہتے ہیں کہ ہمارا مذہبی جہادی طبقہ زمینی حقائق کو نہیں سمجھتا۔۔۔انکا نظریہ ہے کہ تم کام کرو مدد اللہ کی طرف سے آئے گی۔۔۔اتنا ہی آسان ہوتا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے خلاف جہاد کیوں نہیں کیا؟کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی مدد نہیں تھی؟ کیا نوح علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی مدد تھی یا نہیں تھی؟نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کیوں کی ہے جہاد کیوں نہیں کرلیا؟۔۔۔پھر موسی علیہ السلام نے فرعون کے غرق ہونے کے بعد اپنی قوم کو جہاد کا حکم کیوں دیا؟اتنا طویل عرصہ جہاد کیوں نہیں کیا؟ اسکی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے موسی علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ زمینی حقائق پر غور کرو۔۔۔اسی طرح نوح علیہ السلام کے دور میں چالیس پچاس افراد ایمان لائے تھے وہ پوری دنیا کے خلاف تلوار نہیں اُٹھا سکتے تھے یہ زمینی حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ اللہ نے اس دنیا کو اسباب کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔۔۔یعنی جہاد کے لئے قوت کی ضرورت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

اس اعتراض کے جواب میں آپ کیا کہیں گے؟

آڈیو دورانیہ: ۸ منٹ ۱۰ سیکنڈز

آرکائیو ڈائریکٹ ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/aitraazjawabat11pashtooshiekhkhalidhaqqanihf/AitraazJawabat11_Pashtoo-Shiekh_Khalid_Haqqani_HF.mp3

پی کلاؤڈ لنک
https://my.pcloud.com/publink/show?code=XZNS2JkZTOePhJ883nVUInMYbjgzRHKabOJ7

@umarmedia

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں