120

آرمی پبلک اسکول پشاورکے واقعے کا حقیقی صورت حال کیاہے؟

آرمی پبلک اسکول پشاورکے واقعے کا حقیقی صورت حال کیاہے؟

جب سےپشاورآرمی پبلک اسکول کا واقعہ ہوا ہےاس وقت سے تحقیقات کاشورمچایا جارہاہے،ننھے منے بچے اپنے کٹے ہوئے سرہتھیلی پررکھ کراپنے قاتل کی تلاش میں ہیں،والدین بھی مبہوتی کی عالم میں حکمران اور جرنیلوں کے منہ تک رہے ہیں،دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کررکھی ہے۔

اب دستور اور قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ واقعے کے ذمہ دارسے پوچھاجائے کہ تم نے میرے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا؟
اس صورت میں یقیناً سب سے مستند جواب واقعےکے ذمہ دار ہی کا ہوگا۔ آج تحقیقاتی کمیشن بنائی جارہی ہیں اور اقرار کنندہ سے کوئی نہیں پوچھتا کہ حقیقی صورت حال کیاہے،
مدعی فریق ببانگ دھل کہہ رہاہے کہ اس کاروائی کی دو صورتیں ہیں، ایک کے ذمہ دار ہم ہیں وہ یہ کہ اس سکول کے سرماؤں کے قاتل ہم ہیں اوردوسری صورت یہ کہ اس سکول میں بچوں کے قاتل یہی جرنیل وغیرہ ہیں،جو تمہاری تسکین کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں۔
تحریک کے حالیہ سربراہ مفتی عاصم منصورحفظہ اللہ نے چیلنج کے طور پر پیغام نشر کیا کہ ایک آزادتحقیقی کمیٹی تشکیل دی جائے، وہی کمیٹی ہمارا اور ان جرنیلوں کاآزاد محاسبہ کرے، اگر ہم ان معصوم بچوں قاتل ثابت ہوئے تو پوری امت مسلمہ کے سامنے ہمیں عبرت ناک سزادی جائے اور اگر یہی جرنیل قاتل ثابت ہوئے تو خدارا قوم اور بالخصوص پختون ان ظالموں کو محافظ پاکستان اور محافظ اسلام سمجھنے کی بجائے قوم اور ملک کے غدار اور عوام کے خون کے سوداگرسمجھ کر ان کو تنہا کریں۔

ہمارے دعوے کی تائید میں اسی واقعے میں ملوث ایک کمانڈوکی ویڈیو پیغام کابھی جائزہ لیں۔
خلاصہ کلیہ یہ کہ اگر قوم اور بالخصوص بچوں کے والدین حقیقت حال تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ان کرائے کے قاتلوں(فوج) کے محاسبے کاہرممکن حربہ تلاش کریں جس کرائے کاپرائم منسٹر عمران خان اور آئی ایس بی آر خود اقرار کرتے ہیں اگریہ ہمت نہیں توپھر موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح میدان تہہ میں چالیس سال اور بھی سرگردان پھرتے رہوگے، ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا اور مجاہدین پر الزام تراشی وقت کا ضیاع ہی ثابت ہوگا۔۔

محمد خراسانی
مرکزی ترجمان تحریک طالبان پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں